تعارفِ علامہ عبد الحکیم شرَف قادری

تعارفِ علامہ عبد الحکیم شرَف قادری تحریر : فیضان خان(۱۸ شعبان ٨٢٤١؁ه‍ یومِ وصال محسنِ اہل سنت، ماہرِ رضویات، شیخ الحدیث علامہ عبدالحکیم شرَف قادری)امام شیخ علامہ محدث فقیه عبد الحکیم شرف قادری حنفی بن مولوی الله دتہ بن صوفی نور بخش ٢٤ شعبان المعظم ١٣٦٣ھ/١٣ اگست ١٩٤٤ء غیر منقسم ہندوستان، مرزا پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے وقت آپ کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آگیا۔امام عبد الحکیم شرَف قادری کا شمار اہل سنت کے نامور علماء میں ہوتا ہے۔ وہ محسنِ اہل سنت ہیں کہ انہوں نے اہل سنت میں تصنیف و تالیف کو جِلا بخشی، اہل سنت پر انہوں نے بہت بڑا احسان کیا ہے، وہ رضویات کو فروغ دینے والے ہیں کہ سب سے پہلے انہوں نے ہی عالمِ عرب میں شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمه الله کا تعارف پیش کیا ان کے بعد ان کے فرزند علامہ ڈاکٹر ممتاز احمد سدیدی الأزھری نے جامعة الأزھر مصر میں امامِ اہل سنت کا تعارف کرایا۔آج اگر عالَمِ عرب میں امام احمد رضا خان کو کوئی جانتا ہے تو اس کا کریڈٹ چار لوگوں کو جاتا ہے، امام شرف قادری، ان کے فرزند ڈاکٹر ممتاز احمد سدیدی، ڈاکٹر محمد مسعود احمد اور علامہ سید وجاہت رسول قادری۔دنیاوی تعلیم کا حصول:آپ نے پرائمری تعلیم کا آغاز سات سال کی عمر سے ١٩٥١ء میں کیا۔ تحصیل علم کے لیے ایم- سی پرائمری اسکول انجن شیڈ لاہور میں داخلہ لیا اور ١٩٥٥ء تک یہاں زیرِ تعلیم رہے۔دینی تعلیم کا آغاز:آپ کے دینی تعلیم کا آغاز تو گھر ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ بچے کی یہ فطرت ہے کہ بالعموم وہ دیکھ کر زیادہ سیکھتا ہے۔ اور آپ کو تو گھر کا ماحول ہی ایسا ملا کہ سب کے سب الله تعالیٰ کے فرمانبردار بندے اور آقائے دوجہاں ﷺ کے فدائی تھے۔ لہذا دل و دماغ میں یہی سمائی۔فرمایا: "بچپن میں یہی سوچا تھا کہ بڑا ہو کر بندۀ مومن بنوں گا، مدرس بنوں گا، خادمِ دین بنوں گا اور تصنیف و اشاعت کے ذریعے مسلک اہل سنت کی خدمت کروں گا"(محسنِ اہل سنت ص٣٨)امام شرف قادری نے درجِ ذیل دینی درسگاہوں سے علم حاصل کرنے کی سعادت حاصل کی:١۔ جامعہ رضویہ مظہر الاسلام، فیصل آباد٢۔ دار العلوم ضیاء شمس الاسلام، سیال شریف٣۔ جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور٤۔ جامعہ امدادیہ مظہریہ، بندیال٥۔ جامعہ صدیقیہ، انجن شیڈ، لاہورامام شرف قادری رحمة الله علیہ مفتی اعظم پاکستان امام ابو البرکات سید احمد قادری رحمة الله علیہ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے اور علامہ ریحان رضا خان رحمه الله سے اجازت و خلافت حاصل کی۔ آپ نے علماءِ عرب سے حدیث کی اجازت کے ذریعے بھی امام احمد رضا خان اور دیگر علماء اہل سنت کو علماء عرب میں متعارف کروایا۔ نیز آپ کو علماء عرب بالخصوص جامعة الازھر مصر کے علماء بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔آپ کے چند جلیل القدر اساتذہ کے نام:١۔ محدث اعظم پاکستان علامہ سید محمد سردار احمد چشتی قادری٢۔ علامہ قاضی محمد فضل رسول رضوی٣۔ علامہ عطاء محمد بندیالوی٤۔ علامہ غلام رسول رضوی٥۔۔مفتی محمد عبد القیوم ہزاروی٦۔ علامہ محمد اشرف سیالوی٧۔ علامہ حافظ احسان الحق٨۔ علامہ سید منصور حسین شاہ٩۔ مفتی محمد امین١٠۔ علامہ شمس الزماں قادریچند جلیل القدر تلامذہ کے نام:١۔ مفتی محمد خان قادری٢۔ علامہ محمد صدیق ہزاروی٣۔ علامہ محمد عبدالستار سعیدی٤۔ علامہ خ+اد+م حسین ر+ض+وی٥۔ علامہ عبد الرزاق بھترالویامام شرف قادری نے ساری زندگی دین اور مسلک اہل سنت کی خدمت میں گزاری۔ تادمِ وصال ان کا قلم چلتا رہا اور دین اسلام و مسلک اہل سنت کی خوشبو پھیلاتا رہا۔ جملہ اکابرین میں باقائدگی سے امام اہل سنت شیخ الاسلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان پر لکھنے والی شخصیات میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مفسر و محدث امام غلام رسول سعیدی رحمه الله نے فرمایا:"مولانا نے اپنے طرزِ تبلیغ سے لوگوں کے دلوں میں مسلکِ رضوی سے محبت پیدا کی۔ اعلیٰ حضرت کی علمی اور تحقیقی خدمات سے انہیں متعارف کرایا اور پہلی مرتبہ ہری پور میں مولانا کی قیادت میں "یومِ رضا" منایا گیا۔"(محسن اہل سنت ص٩٨)آپ کثیر التصانیف ہیں۔ آپ نے امام احمد رضا پر متعدد کتب و مقالات لکھے ہیں جن کے نام اور تفصیلات کی اس تحریر میں لکھنے کی گنجائش نہیں۔اس کے علاوہ بھی آپ نے سینکڑوں کتب لکھ کر دنیائے اسلام اور اہل سنت میں بہار پیدا کی ہے جن میں سے چند مشہورِ زمانہ کتب یہ ہیں، "من عقائد اھل السنة" عربی میں (اردو نام عقائد و نظریات) لکھ کر دنیائے عرب کو بتلایا کہ جن کو مخالفین برصغیر میں بریلوی کہہ کر بدنام کر رہے ہیں اور ایک نئے فرقہ کا تاثر پیش کررہے ہیں وہ دراصل اہل سنت ہی ہیں اور ان کے عقائد وہی ہیں جو چودہ صدیوں سے ائمہ اہل سنت کے چلے آرہے ہیں۔ ایک کتاب غیر مقلد مولوی احسان الہی ظہیر کی کتاب "البریلویہ" (جس میں انہوں نے جھوٹ کی وہ تاریخ رقم کی کہ ایسی فریب کاریاں تو آپ کو رافضیوں کی کتب میں بھی نہیں ملیں گیا إلا ماشاءالله۔ اس کتاب کے ذریعے ہی عالَمِ عرب میں اہل سنت کو بدنام کرنے کی ناپاک و ناکام کوشش کی) کے رد میں "البریلویہ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ" لکھی جس میں امام شرف قادری نے ان تمام اعتراضات کا ایسا مدلل اور مُسکت جواب دیا کہ آج تک مخالفین کو اس کا رد لکھنے کی جرات نہیں ہوئی۔ ان کتب میں سے ایک کتاب "تذکرۀ اکابرِ اہل سنت" بھی ہے جو علمِ اسماء الرجال پر مشتمل ہے جس میں علامہ صاحب نے ماضی قریب کے دو صدیوں پر مشتمل سینکڑوں علماء و صوفیاء و اکابرینِ اہل سنت کی سیرت اور ان کے حالاتِ زندگی قلمبند کئے۔ ان کی تمام کتب اہل سنت میں سند کی حیثیت رکھتی ہیں۔قارئین کرام کو اگر علامہ صاحب کی تمام کتب و مقالات کے نام اور ان کی تفصیلات جاننا ہو تو "محسنِ اہل سنت" کتاب کی طرف رجوع کریں۔امام عبد الحکیم شرف قادری علماء کرام کی نظر میں:١۔ امام تقدس علی خان فرماتے ہیں:محب محترم مولانا عبد الحکیم شرف قادری اہل سنت کی قابل قدر شخصیت ہیں۔ مولانا موصوف مصروف ترین اور ہمہ گیر شخصیت ہیں۔ ان کی تصانیف ان کے علم و فضل کا بیّن ثبوت ہیں۔ ایک عالم متقی ہونے کے ساتھ خاموش طبع بھی ہیں۔ مولانا نے جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا ہے حقیقت میں اس کا حق ادا کردیا ہے۔(محسن اہل سنت ص٢٨٩)٢۔ امام بدر القادری فرماتے ہیں:یقیناً آپ اہل سنت کے خزانۂ عامرہ کے گوہر شب تاب ہیں۔ ملتِ اہل سنت آپ کے علمی کارناموں ہر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔ نہایت خاموشی سے کنج خمولی میں بیٹھ کر علم و تحقیق کی جو گرہ کشائی آپ کرتے رہتے ہیں یہ کمال و خوبی زورِ بازو سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔(محسن اہل سنت ص٣٠١)٣۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد فرماتے ہیں:آپ ان ممتاز اہلِ قلم میں سے ایک ہیں جن سے فقیر استفادہ کرتا ہے۔ آپ کی مساعی لائقِ تحسین و آفرین ہیں۔ علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری اہل سنت کے مشہور و معروف قلم قار ہیں۔ ان کی نگارشات (کتب و مقالات و تراجم) ٣٠٠ سے تجاوز کرچکی ہوگی۔۔۔ وہ محدث بھی ہیں، محقق بھی۔۔۔ مدرس بھی ہیں، معلم بھی۔۔۔ مصنف بھی ہیں اور مؤلف و مترجم بھی۔۔۔ زبان و بیان پر ان کو پوری قدرت حاصل ہے۔ وہ اہل سنت کا عظیم سرمایہ ہیں۔ مولیٰ تعالیٰ ان کی خدمات جلیلہ کو قبول فرما کر اس پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین!(محسن اہل سنت ص٣٠٩، ٣١٠)٤۔ مولانا الیاس عطار قادری فرماتے ہیں:سرمایۂ امت، محسن اہل سنت، رہبر شریعت، شرف ملت، استاذ العلماء حضرت علامہ مولانا محمد عبد الحکیم شرف قادری رحمة الله علیہ۔(ماہنامہ "الاشرف" لاہور، شرف ملت نمبر ص٢٢٩ اکتوبر ٢٠٠٧ء)٥۔ مفتی اعظم منیب الرحمٰن فرماتے ہیں:علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری رحمة اللہ علیہ تمام تر علمی جلالت اور شکوہ کے باوجود انتہائی متوازن، متواضع اور متناسب طبیعت کے مالک تھے۔ علامہ عبدالحکیم شرف قادری رحمة اللہ علیہ عہد کے ممتاز مفسر، محدث، فقیہ، مدرس، محقق، مصنف اور مایہ ناز ادیب اور صاحب طرز نثرنگار تھے۔ انہیں کتابیات اور رجال پر ملکہ تامہ حاصل تھا۔ ہمارے برصغیر پاک و ہند کے تناظر میں وہ مسلک اہل سنت و جماعت کے لیے سند اور اتھارٹی رکھتے تھے۔(ماہنامہ "الاشرف" لاہور، شرف ملت نمبر ص٣١٨ اکتوبر ٢٠٠٧ء)٦۔ امام ارشد القادری فرماتے ہیں:ہندوستان میں جس پاکستانی عالم کی تحریرات کو سب سے زیادہ توجہ اور تحسین کے ساتھ پڑھا جاتا ہے وہ یہ ( علامہ شرف قادری صاحب) ہیں، اور میں تو ان کا عاشق ہوں۔ ہندوستان میں جامعہ نظامیہ رضویہ کو لوگ آپ کی وجہ سے جانتے ہیں۔ "من عقائد اھل السنة" نے آپ کو زندہ جاوید کردیا ہے۔(محسن اہل سنت ص١٧٥، ١٧٦)٧۔ شیخ ضیاء الدین کردی مصری فرماتے ہیں:ان کی پیشانی علم اور تقویٰ کے نور سے منور ہے۔ ٨۔ شیخ حازم محمد احمد محفوظ مصری فرماتے ہیں:علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ انہوں نے کئی کتابوں کا عربی اور فارسی سے اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ وہ پاکستان میں اہل سنت و جماعت کی مشہور دینی درسگاہ "جامعہ نظامیہ رضویہ" لاہور میں حدیث کے استاذ ہیں۔ عربی اور فارسی زبانوں میں تقریر اور تحریر کا تجربہ رکھتے ہیں۔(ماہنامہ "الاشرف" لاہور، شرف ملت نمبر ص١٩٢ اکتوبر ٢٠٠٧ء)اس کے علاوہ سینکڑوں علماء و مشائخ نے اپنے تاثرات پیش کیے ہیں۔اہل سنت کا یہ چکمتا دمکتا ستارہ اور شاہکار ١٨ شعبان المعظم ١٤٢٨ھ/ یکم ستمبر ٢٠٠٧ء کو ہم سے رخصت ہو کر دارفانی کی طرف کوچ فرما گیا۔ مرقد مبارک لاہور مزارِ داتا گنج بخش رحمه الله کے قرب میں ہے۔اللہ تعالیٰ علامہ امام عبد الحکیم شرف قادری رحمه الله کی مغفرت فرمائے، ان سے راضی ہو، انہیں حضور ﷺ کی شفاعت عطا فرمائے اور ہم مسلمانوں کو ان کی تصانیف سے مستفیض فرمائے۔ آمین!فیضان خان۲۵ شعبان ١٤٤١؁ه‍٢٠ اپریل ٠٢٠٢؁ء(پرانی تحریر بترمیم)
https://www.facebook.com/100083459226302/posts/-%D8%AA%D8%B9%D8%A7%D8%B1%D9%81%D9%90-%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%81-%D8%B9%D8%A8%D8%AF-%D8%A7%D9%84%D8%AD%DA%A9%DB%8C%D9%85-%D8%B4%D8%B1%D9%8E%D9%81-%D9%82%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%D8%B1-%D9%81%DB%8C%D8%B6%D8%A7%D9%86-%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%B1%DB%B8-%D8%B4%D8%B9%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D9%A8%D9%A2%D9%A4%D9%A1%D9%87-%DB%8C%D9%88%D9%85%D9%90-%D9%88%D8%B5%D8%A7%D9%84-%D9%85%D8%AD%D8%B3%D9%86/113027934680212/